باد ہوائی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - فضول، بے معنی، جھوٹ، فرضی، بے بنیاد، ناکارہ، نکما۔ 'وہ اپنے فلسفے اور خیالات میں خواہ وہ باد ہوائ کیوں نہ ہوں، مگن ہیں۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'باد' اور عربی زبان سے ماخوذ اسم 'ہوا' سے مرکب ہے۔ ہوا کے ساتھ ہمزہ زائد لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے ہوائی بنا ہے۔ اردو میں یہ مرکب بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨١٣ء میں 'ام الائمہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فضول، بے معنی، جھوٹ، فرضی، بے بنیاد، ناکارہ، نکما۔ 'وہ اپنے فلسفے اور خیالات میں خواہ وہ باد ہوائ کیوں نہ ہوں، مگن ہیں۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٩ )